ملک میں عید الاضحی سے قبل کانگو وائرس کے خدشہ کا خدشہ، نامہ جاری ہے۔

اسلام آباد: عید حیٰ پر جانور کی آمد و رفت اور کانگو وائرس سے ہونے والے کاشہ ہوتا ہے، عورت کے اختیار کی خرید و فروخت اور قربانی کرتے وقت احتیاطی تدابیر کر سکتے ہیں۔

قومی ادارہ صحت کے ماہرین کی جانب سے صوبے کے لیے گو وائرس کی خصوصی خبریں تیار ہیں

موت کے نام میں کہا گیا کہ عید الاضحیٰ سے قبل مویشیوں کی ملک گیئر کی نقل نقل ہوتی ہے، عید الاضحی سے قبل انسانوں کے جانور سے میل جول بڑھ جاتی ہے، ان دنوں میں کانگو وائرس کا خدشہ ہوتا ہے۔

قومی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ نامہ نگار کا مقصد، متعلقہ کو کانگو وائرس سے لڑنا، کانگو وائرس کا خطرہ خطرے کے لیے بروقت اقدام ناگزیر ہے۔

حملہ کے نام سے کہا گیا ہے کہ بروقت حفاظتی اقدامات سے کانگو وائرس کااؤ روکنا ممکن ہے، انتظامی ادارہ کانگو وائرس کے تحفظ کے لیے پیشگی اقدامات کو یقینی بنائیں۔

موت کا نام بتا دیا گیا ہے کہ کانگو بخارے نیرو نامی وائرس سے لاحق ہوتا ہے، کانگو وائرس مویشی کیل سے چپکی چیڑ میں شامل ہوتا ہے۔

کانگو وائرس انسانوں کو منتقل کرتا ہے، کانگو وائرس سے ایک جگہ منتقل ہوتا ہے، کانگو وائرس سے ہیموریجک بخارا میں انسان نہیں ہوتا۔

موت کے نام میں بتایا گیا ہے کہ بخار سے کماروں کی شرح 10 تا 40 فیصد ہو سکتی ہے، ماضی میں بلوچستان کانگو وائرس سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے، ملک میں کانگو وائرس کے بیشتر کیس بلوچستان سے رپورٹ، رواں برس بلوچستان میں 27 کانگو کیسز، 5 رپورٹ ہوئی

علامات:

پانی کے نام میں کہا گیا ہے کہ زہر میں کانگو بخار کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں، کانگو وائرس انسانی خون، تھوک اور فضلے میں ختم ہو جاتا ہے، گلہ بان، قصاب اس وائرس سے جلد متاثر ہو سکتے ہیں۔

پانی کے نام سے کہا گیا کہ تیز، بخارے میں کمان، گردن میں درد، ق، متلی، گلے کے نشان، جسم پر سرخ دھبے منہ، ناک، اندر اعضاء سے خون بہنا کانگو کی اہم علامات۔

رات:

عید پر پوری آستین والے کپڑے مویشی منڈی پہن کر جائیں، مویشی منڈی واپسی پر فوری نہ کر صاف کپڑے پہنیں، بچوں کو مویشی منڈی لے جانے سے گریز کریں۔

عورت و قصاب قربانی کے وقت دستانوں کا استعمال کریں، قربانی کے وقت خود کو زخمی اور جانور کے خون سے بچائیں، قربانی کا گوشت دھونے کے وقت دستانوں کا استعمال کریں، احتیاطاً قربانی کے گوشت کو اچھی طرح سے استعمال کریں۔

قومی ادارہ صحت کے وائرس سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ کانگو کی طاقت ویکسین تا ایجاد نہیں ہوئی لیکن احتیاطی تدابیر اختیار کر کے وائرس سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

طبی عمل کے لیے:

طبی عملہ کانگو مریضوں کا علاج کرتے وقت خصوصی احتیاط کریں، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مصدقہ مریض کوسولیشن روم میں رکھیں، این ایچ میں کانگو وائرس کی تشخیص ممکن ہے۔

ڈاکٹرز کانگو کے مشتبہ مریض کے نمونے فوری این آئی ایچ بھجوائیں، مناسب احتیاطی تدابیر کے ذریعے وائرس سے بچاؤ ممکن ہے۔

تبصرے

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں