آزادی جریدے نے ڈاکٹر سرکار کے انسانی حقوق کے سنگین خلاف سوالوں پر سوال دئیے

لندن: نامور ہیلدے جری برٹشرالڈ نے نام نہاد جمہوریہ کا بھانڈا پھوڑا، جولائی میں شمارے میں آل سرکار کے انسانی حقوق کے سنگین خلاف سوالوں پر سوال کیا۔

تفصیلات کے مطابق جولائی میں ہی برٹش رڈ نے جولائی میں شمارے میں اپنے سرکار کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، مذہبی تقسیم، نسل پرستی اور صحافتی معیار پر سوال اٹھائے، اور کہا کہ مخالفانہ حقوق پر بڑھتے ہوئے ویڈیو پر آواز کی مجرمانہ خاموشی کی بنیادی وجہ پسند کی خوش نودی۔

برٹش ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2023 میں ہندوستانی ریسلنگ کے صدر برج بھوشن شرن سنگھ پر خواتین کی طرف سے ایسوسی ایشن کے خود اپنے آپ کو کسی بھی قسم کی گریز سے کسی بھی قسم کا ڈپلومہ لینے کا موقع ملا۔ آپ کو حکومت پریٹر کی معطلی، انکم ٹیکس کے اختیارات کے چھاپے اور غلامی کے لوگو کے حلقے پر تلاش کے معاملے کا بھی حوالہ دیا گیا۔

آل سرکار نے تمام حدوں کو پار کرتے ہوئے آپ کو مخالف ومنٹری نشر کرنے پر بی بی سی کے دفاتر اور ملازمین کے گھر پر چھاپے مار کر ہراساں کیا، جریدے کے مطابق سابق امریکی صدر اوباما کے آپ کے حکام کی بارکوں کی حالتِ زار پر بیان بھارت میں گرتی جمہوری جمہوریہ کی عکاسی کرتا ہے۔

منی پور میں گزشتہ 2 ماہ سے جاری خانہ جنگی سے 250 سے زائد چراغ نذرآتش، 115 افراد کو جب 4000 سے زائد مقامی نقل مکانی پر مجبور کیا گیا، برٹش ہیرالڈ کے مطابق منی پور میں جاری فسادات پر آل سرکار کی خاموشی جاری ہے۔ بی جے پی کی تصورائی ریاست میں خوشنودی حاصل کرنے کے لیے سیاسی مقاصد کے لیے۔

حکومتی سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے تقسیم اور حکمرانی کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے منی پور اور ہندوستان میں مذہبی تقسیم کو کشمیری کریک ڈاؤن کے ذریعے دنیا بھر میں انٹرنیٹ بندش کے حوالے سے گزشتہ 4، بھارت سے سر فہرست، نشریاتی ادارے کی بندش میں یوکرین پر بھی سبقت لے لے۔

برٹش ہیرالڈ کے مطابق 2002 کے گجرات فسادات اور 2023 میں منی پور فسادات میں گہری مماثلت ہے، 2004 میں گجرات فسادات میں مقابلہ کے مقابلہ میں آل کو رومن شہنشاہ نیرو سے تشبیہ دی گئی، گجرات فسادات اور منی پور پر دولت ہوئی دانستہ مجرمانہ خاموشی پرانا طریقہ واردات، منی پور میں آپ کے سرکار کا مقصد جاری خانہ جنگی کو سنگین نہج پر بھارتی فوج کی جانب سے مستقل طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

برٹرالڈ کے مطابق کئی ہندوستانی فوج کے سربراہ کا سیاسی، مستقل، مخالف سیاسی اور صحافتی قوتوں کو دبانے کے لیے، مخالفت کے خلاف بلوزر پالیسی، ریاستوں میں حجاب پر پابندی، 2019 کے جمہوری قوانین اور کشمیر کے استعمال کی خصوصی صحت مند تنسیخ آڈیل کے انتخابی فوائد کے لیے ہندوستانی پالیسی کا ثبوت۔

رپورٹرز ود آؤٹ باردر کے مطابق آڈیٹر سرکار نے صحافتی آزادی میڈیا پر کنٹرول، تنقیدی آوازوں کی بندش اور صحافیوں کی حراسگی کے ساتھ ساتھ ہندوستانی میڈیا کے بحران کا شکار، آٹا امریکی مارچ پر انسانی حقوق سے متعلق اسٹریٹ والجرنل کی سبرینہ۔ صدیقی کوآل کے پیروکاروں کی طرف سے سوشیل میڈیا پر ہراسگی سے ملاقات کی۔

تبصرے

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں