Saleem Safi

ٹی ٹی پی کے امیر کا پاکستانی علما سے سوال

سلیم صافی
میں گزشتہ تین دن عراق میں رہا ۔ بغداد میں قیام کے دوران حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دی ۔ یوں امام ابوحنیفہ جیسے صاحب عزیمت فقیہ اور عالم کی یاد تازہ ہوئی۔ ان کے مزار پر حاضر تھا کہ مجھے ٹی ٹی پی کے امیر مفتی نور ولی کے پاکستانی علما سے سوال پر ان کی پراسرار خاموشی ذہن میں تازہ ہوئی۔

یہ لوگ(میں علمائے حق نہیں بلکہ سیاسی اور مذہب فروش علما کی بات کررہا ہوں) دن رات ہمارے آئمہ کرام کا نام لیتے اور انہیں سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔ پہلے ذرا امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کی شہادت کا مختصر قصہ، پھر ٹی ٹی پی کے سربراہ کا خط اور پھر ہمارے علمائے کرام کی خاموشی کا تذکرہ ملاحظہ کیجئے ۔ مورخین لکھتے ہیں

خلیفہ ابو جعفر منصور نے دارالخلافہ کیلئے بغداد کا انتخاب کیا اور امام ابوحنیفہ کو قتل کرنے کیلئےکوفہ سے بغداد بلوایا تھا کیونکہ حضرت امام حسنؓ کی اولاد میں سے ابراہیم بن عبداللہ بن حسن بن حسن بن علیؓ نے خلیفہ منصور کے خلاف بصرہ میں علم بغاوت بلند کر دیا تھا ،امام صاحب ابراہیم کے علانیہ طرفدار تھے۔خلیفہ منصور کو امام صاحب سے خوف ہوا۔ لہٰذا ان کو کوفہ سے بغداد بلا کر قتل کر نا چاہا مگر بلا سبب قتل کر نے کی ہمت نہ ہوئی ،اس لئے ایک سازش کر کے قضا کی پیشکش کی۔ امام صاحب نے قاضی القضاۃ کا عہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیا اور معذرت کر دی کہ مجھ کو اپنی طبیعت پر اطمینان نہیں، میں عربی النسل نہیں ہوں، اس لئے اہل عرب کو میری حکومت ناگوار ہو گی، درباریوں کی تعظیم کرنا پڑے گی اور یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا۔

منصور نے قاضی القضاۃ کے عہدہ قبول نہ کرنے کی وجہ سے امام صاحب کو اس وقت یعنی 146ھ میں قید کر ڈالا۔ لیکن ان حالات میں بھی اس کو ان کی طرف سے اطمینان نہ تھا۔ امام صاحب کی شہرت دور دور تک پہنچی ہوئی تھی۔ قید خانہ میں بھی ان کا سلسلۂ تعلیم برابر قائم رہا۔امام محمد نے، جو فقہ کے دست وبازو ہیں، قید خانہ ہی میں ان سے تعلیم پائی۔ ان وجوہ سے منصور کو امام صاحب کی طرف سے جو اندیشہ تھا وہ قید کی حالت میں بھی رہا جس کی آخری تدبیر یہ کی کہ بے خبری میں ان کو زہر دلوا دیا۔ جب ان کو زہر کا اثر محسوس ہوا تو سجدہ کیا اور اسی حالت میں اپنے رب سے جا ملے۔ان کے مر نے کی خبر جلدہی تمام شہر میں پھیل گئی اور سارا بغداد امڈ آیا۔ حسن بن عمارہ نے جو قاضی شہر تھے غسل دیا، نہلا تے تھے اور کہتے جاتے تھے’’واللہ!تم سب سے بڑے فقیہ، بڑے عابد، بڑے زاہد تھے، تم میں تمام خوبیاں پائی جاتی تھیں۔‘‘

غسل سے فارغ ہوتے ہوئے لوگوں کی یہ کثرت ہوئی کہ پہلی بار نمازِ جنازہ میں کم و بیش پچاس ہزار کا مجمع تھا اس پر بھی آنے والوں کا سلسلہ قائم تھا۔امام صاحبؒ نے وصیت کی تھی کہ خیزران میں دفن کئے جائیں۔ کیونکہ یہ جگہ ان کے خیال میں مغضوب نہ تھی، اس وصیت کے موافق خیزران کے مشرقی جانب ان کا مقبرہ تیار ہوا۔ سلطان الپ ارسلان سلجوقی جو عادل ہونے کے ساتھ ساتھ بہت فیاض بھی تھا اس نے 459ھ میں ان کی قبر کے قریب ایک مدرسہ تیار کرایا جو مشہدِ ابو حنیفہؒ کے نام سے مشہور ہے۔

اب پاکستانی علمائے کرام سے کئے گئے ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نورولی کا سوال ملاحظہ کیجئے جو انہوں نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے کیا۔ اس میں مفتی نورولی کہتے ہیں کہ: نہایت قابل قدر علمائے کرام اور مشائخ عظام، السلام علیکم ورحمت اللہ وبر کاتہ!

نائن الیون سے لیکر آج تک کی صورت حال آپ حضرات کے سامنے بالکل واضح ہے، یہ سارے حالات و واقعات آپ حضرات کے سامنے پیش کرنا یقیناً سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہوگا اور پوری دنیا بالخصوص اس خطے میں دہشت گردی کے نام پر جو کچھ ہورہا ہے اس کے پس منظر سے بھی یقیناً آپ حضرات ہم سے زیادہ واقف ہیں۔ دہشت گردی کے نام پر اس جنگ کے پس پردہ عالمِ کفر کے ایجنڈے سے بھی آپ حضرات بخوبی واقف ہیں اور ساتھ ہی اس جاری جنگ میں پاکستان کا کردار بھی ہرگز آپ حضرات سے مخفی نہیں۔ _اب علمائے کرام کی خدمت میں عرض ہے کہ آپ حضرات کے فتوے کی روشنی میں ہم نے جو جہاد شروع کیا تھا اب اگر آپ حضرات کو ہمارے اس جہاد میں کوئی کمی بیشی نظر آئی ہو، ہم نے اس فتوے پر عمل کرنے میں کوتاہی کی ہو ! ہم نے اپنا جہادی قبلہ تبدیل کیا ہو تو آپ حضرات ہمارے بڑے ہیں، ہمارے اساتذہ کرام اور مشائخ ہیں لہٰذا علمی دلائل کی روشنی میں ضرور ہماری رہنمائی فرمائیں، ہم آپ حضرات کے دلائل سننے کیلئے بخوشی تیار ہیں اور اگر جہادی قبلہ درست ہونے کے باوجود کسی مجبوری یا مصلحت کے تحت ہماری رہنمائی نہیں فرما سکتے تو ہم استاذی اور شاگردی کا واسطہ دیتے ہیں کہ ہمیں دشمن کے دئے گئے ناموں سے نہ پکارا کریں، ہمیں دہشت گرد اور گمراہ نہ کہا کیجئے یہ آپ حضرات کا ہمارے اوپر بڑا احسان ہو گا، ہم اپنے حق میں آپ حضرات کی خاموشی اپنے ساتھ شانہ بشانہ لڑنے کے مترادف سمجھیں گے۔

دوسری طرف ہم نے پاکستانی حکومت سے امارت اسلامیہ کی ثالثی میں تقریباً ایک سال تک مذاکرات جاری رکھے اور اس وقت سے لے کر آج تک ہم جنگ بندی پر قائم بھی ہیں البتہ پاکستانی سیکورٹی اداروں کی طرف سے جنگ بندی کی مکمل خلاف ورزیوں کی وجہ سے ہم نے اپنے مجاہدین کو جوابی اور انتقامی حملے کرنے کی اجازت دی۔

آپ نے مفتی نورولی کا پیغام ملاحظہ کیا لیکن ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود اس پر تمام بڑی مذہبی تنظیمیں اور بڑے بڑے علمائے کرام یا مشائخ عظام خاموش ہیں۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ان کے سوال سے قبل گزشتہ برسوں میں پاکستانی علمائے کرام دینی فرض ادا کرکے اس حوالے سے اگر مگر کے بغیر کھلے الفاظ میں رائے دے دیتے کہ تحریک طالبان پاکستان جو کچھ کررہی ہے وہ ازروئے شریعت ٹھیک ہے یا غلط لیکن بدقسمتی سے کچھ خاموش ہیں۔ اب جب مفتی نورولی نے خود ان سے سوال کیا ہے تو تمام بڑی دینی جماعتوں کے سربراہوں خصوصاً مولانا فضل الرحمان، مولانا حامد الحق حقانی، مولانا تقی عثمانی اور اسی نوع کے دیگر علما کا فرض ہے کہ وہ بغیر کسی مصلحت اور خوف کے سوال کا جواب دیں۔ یہاں علمائے کرام سے مفتی نورولی نے صرف سوال نہیں پوچھا بلکہ ان سے باقاعدہ رہنمائی طلب کی ہے لیکن افسوس کہ چند غیرمعروف اور سرکاری قسم کے علما کے سوا کسی نے لب کشائی نہیں کی لیکن دوسری طرف یہ لوگ اپنے آپ کو انبیا علیھم السلام کے ورثا اور حضرت امام ابوحنیفہ جیسی ہستیوں کے گدی نشین کہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں