ہراسمنٹ کی خاموشی اور احتیاط کیا ہے؟ جانیے

جنسی ہراسانی (اسمنٹ) کسی خاتون یا بچی کے ساتھ بھی اس کے گھر میں، اس کام کی جگہ پر، عوامی سفر کے دوران یا کسی عوامی مقام پر۔

اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام گڈ مارننگ پاکستان میں کلینکل سائیکالوجسٹ ڈاکٹر ثوبیہ نے ہراسمنٹ سے متعلقہ اور اسے بچاؤ سے اہم مشورے دیے۔

انہوں نے کہا کہ ہراسمنٹ میں پائی جانے والی ایک ایسی بیماری ہے جس کا مریض ایسا نہیں ہوتا کہ وہ اس بیماری کا شکار ہو جاتا ہے اور اس کا دوسرا پہلو خاندانی یا موروثی اثرات بھی۔

انہوں نے بتایا کہ اگر آپ کے کپڑوں کی شکل و صورت یا کسی جگہ سے جملے کستا بھی ہے تو وہ ہراسمنٹ کے زمرے میں آتا ہے اور ہراسمنٹ سے تعلق ہے کہ گزشتہ روز گلستان جوہر میں تجربہ کرنے والے ہیں۔ انتظام میں دیکھنے میں تو ضروری نہیں کہ ہراسمنٹ کرنے والا بیمار بھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہراسمنٹ کے معنی متشدّدانہ تعلقات، غیرمعمولی طور پر دوسرے لوگوں کو اپنے سے نیچا دکھانا، متعصبانہ رویّے، غیر مہذب جنسی تعلقات کی دعوت دینے والے، زبانی کلامی دین و حمکات، کسی کی عزت اچھالنا وغیرہ میں شامل ہیں۔ ||

بدقسمتی سے یہ دیکھا گیا کہ عام طور پر جنسی ہراسانی کی شکایت کرنے والی خاتون سے کہا جاتا ہے کہ یہ مسائل تو دنیا کی ہر خاتون کے ساتھ ہیں، اس کے لیے انہیں ایسی باتوں پر دھیان نہیں دینا چاہیے جو غلط ہے۔ ۔

تبصرے

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں