مریخ پر زندگی کے آثار مل گئے؟

ناسا کی طرف سے مریخ پر بھیجے گئے خلائی مشن نے وہاں ایک نامیاتی مرکب سے رابطہ کیا جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ زندگی کے لیے ضروری ہو گیا ہے۔

جب سے سائنس نے ترقی کی تب وہ زمین کے علاوہ کسی اور سیارے پر زندگی کے آثار تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کا سب سے بڑا مقصد جہاں ناسا کے ساتھ کئی ممالک کے خلائی مشن بھیجتے ہیں یا اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور بات مفروضوں سے آگے نہیں بڑھی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ناسا کی طرف سے مریخ پرسروینس نامی روور (تحقیقی گاڑی نما) بھی جا چکا تھا جس کو بڑی کامیابی ملی اور اس نے اس مریخ پر ایک ایسا نامیاتی مرکب کیا جو اس سیارے پر زندگی کے لیے ضروری ہے۔ جانا

پرسرویرینس کے روبوٹ بازو پر لفظ ‘شرلاک’ نامی آلے نے کہا ہے کہ یہ حقیقت میں حساس آلات کا ایک مجموعہ ہے۔ اس سے ایک سائنسی دی جریدہ رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پہلے اس مرکب کا نامیاتی ارضی مرض کا حصہ ہے کہ ٹھیک سے سمجھا نہیں گیا۔

اس نامیاتی مرکب کا تجزیہ کرنے والے ناسا کے ماہرین اور جامعہ فلوریڈا سے ایمی ولیمز کا خیال ہے کہ یہاں ماضی میں کسی صورت میں زندگی نہیں گزاری جا رہی ہے کیونکہ اس میں کسی قسم کا مرکب ہونے والا عمل ہے۔ ظاہر کرتے ہیں اسی بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ اسی عمل سے مری کے نامیاتی مرکبات پیدا ہوتے ہیں۔ اس طرح یہ اہم اجزا مریخ پر ہماری توقع سے زیادہ طویل عرصے سے وہاں موجود ہے۔

تاہم اب اس بات کی ضرورت ہے کہ مریخ اور پتھروں کے نمونے زمین پر لاکر ان کا مفصل تعمیر کیا جائے، تاہم یہ منصوبہ صبر آزما اور طویل منصوبہ ہے۔ ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر ایم کے مطابق وہاں کئی طرح کے نامیاتی کاربن ملتے ہیں جو ایک مشہور گڑھے ‘زیرو کریٹر جیو’ سے ملے ہیں جہاں پہلے گارا، کاربونیٹس اور سلفیت ملّی ہیں جو اہم معدنیات ہیں۔ اب اسی جگہ پر ہمیں کاربن بھی مل گیا۔

تبصرے

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں