اختیارئی کے دکھ کی ابتدائی علامت… –

انسان، انسان کے ساتھ مل کر رہے تو ملا ہے، خوش قسمت ہے، لیکن کبھی کبھار کیفیات بھی آجاتی ہیں کہ سب کے ساتھ مل کر سہتا رہتا ہے، پھر بھی ساتھ رہتا ہے۔

بات کسی سے کرتا ہے، دھیان کسی کی طرف۔ معلوم ہوتا ہے، دھیان کے راستے۔ کسی کی تصویر اور ابھرتی۔ یہ تقسیمئی کی ابتدائی علامت ہوتی ہے۔

پھر جب کسی انسان کی خواہش سے بچھڑ رہا ہوں جس کے ساتھ گزارے ہوئے لمحے زیادہ حسین ہیں، سپنوں سے زیادہ سہانے ہیں اور جس کی بات پر دل کے تاروں میں جلترنگ بجتا رہا ہوں تو یہ بچھڑنا قیامت کا بچھڑنا ہے۔ تب بیتے ہوئے لوگ لمحے گزرے، پوری باتیں ہوئیں کہ آپ بولے آپ میں گڈ مڈ ہو، نمی کا غبار بن کر آپ میں اتر آئے۔ انسان بھری محفل میں قیام رہتا ہے۔ سب کے ساتھ بھی اکیلا رہ جاتا ہے۔

اکیلی پن کا یہ دکھ بڑا اذیت نہیں ہوتا۔ انسان کو کچھ دیکھنے کو نہیں ملتا۔ بس اندر ہی اندر چاٹتا آزادی۔ موسم کی موسم کی مچھولیاں ہوں یا پھولوں کی سمتہیں اور خزوں کے رنگ میں رنگوں کی بہار کی شوخیاں، آپ کی پن ہو یا دمکتے لش، اس کی شمالی نمی کا غبار اسے رنگوں سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ بس وہ اپنے اندر قید ہو جاتا ہے اور اس ذات کے قفل کی چابی بچھڑے والا اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔

(معروف مزاح نگار اور کئی کتابوں کے مصنّف کرنل (ر) اشفاق حسین کی تحریر سے اقتباس)

تبصرے

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں