ملکی معیشت کو آئی ایم ایف کا عملی انجکشن، معاشی تخلیق کار کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کا آئی ایم ایف سے 3 ارب مالیت کا لیول معاہدہ ہوا ہے جس سے ملکی معیشت کو طاقت ملی ہے اس سے مالیاتی سوچ کار کی اپنی رائے۔

اے آر وائی نیوز اور آئی ایم ایف کے درمیان لیول معاہدے کے مطابق پاکستان کا معاہدہ مالیت 3 ارب ڈالر ہے اور آئی ایف کی جاب سے اس کی تصدیق کر دی گئی۔ اس بات کا یقین ہے کہ اس سے معاشی ماہرین نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کیا اور کہا کہ اس معاہدے سے ڈیفالٹ کا خطرہ آئی تو ایم ایم ایف پروگرام آسان نہیں ہے۔

عارف نے کہا کہ اس معاہدے پر حبیب کے کارکن کے لیے جولائی میں پاکستان میں بڑی تبدیلیاں کروں گا۔ ڈالر کی کمی کا مسئلہ حل اور شرح سود میں کمی کرنا جس سے قرض کو استحکام ملا۔

معاشی تجربہ کار کہتے ہیں ڈیفالٹ کا خطرہ تو ٹوٹ گیا لیکن آئی ایم ایف پروگرام آسان نہیں اے آروائی نیوز سے گفتگو میں عارف حبیب نے کہا کہ کمی کامسئلہ حل۔ بقا کو تقسیم۔ شرح سود اور مہنگائی میں بھی کمی آئی۔ ڈاکٹر خاقان نے کہا سوچنا نجی آئی ایم ایف کے بائیس پروگرام میں اکیس نامکمل کیوں سے۔

ڈاکٹر خاقان نے کہا کہ سوچنا نجی آئی ایم ایف کے 22 پروگرام میں 21 نا مکمل کیوں؟ معاہدوں کے لفظ ہم کیوں ٹھیک نہیں کر سکتے؟

سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زی نے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ چوائس پاکستان اور مجبوری بھی ہمارے پاس کوئی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم ایف سے معاہدہ پاکستان ایم ایف کے اصول پر بہت بہتر ہے اگر ان کی شرائط نہیں ہوتیں ان کے اصول ہوتے ہیں جو فیصلے کرتے ہیں لیکن ایم ایف کے اصول پر عمل کرنے سے تو مشکلات ختم نہیں ہوتیں۔ ہوتی ہے آئی ایم ایف کے اصول میں ایک یہ بھی ہے کہ ہر آدمی ٹیکس دے ۔

صدر فیڈریشن آف پاکستان آف کامرس عرف اقبال شیخ کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف معاہدے سے غیر یقینی صورت حال کو یقینی بنانا چاہیے۔ بس مین کو ڈائریکشن مل گئی، حکومت کو چاہیے اب چارٹر آف اکانومی کی طرف بڑھتا ہے۔ صدرکراچی کامرس طارق یوسف نے کہا کہ اس معاہدے کے بعد سبق سیکھنا اور نظام کو درست کرنا۔

تبصرے

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں